رشتے دار اور دوست کے خلاف کسو روتھا۔

English
رشتے دار اور دوست کے خلاف کسو روتھا۔

ScanSolve AI Answer

یہاں سوال نمبر 4 کا جواب ہے:

اسلام میں کسی عزیز، رشتہ دار یا دوست کے خلاف بھی سچی گواہی دینا فرض ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں، چاہے گواہی ان کے اپنے، والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے: يَاأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُواكُونُواقَوَّامِينَبِالْقِسْطِشُهَدَاءَلِلَّهِوَلَوْعَلَىٰأَنفُسِكُمْأَوِالْوَالِدَيْنِوَالْأَقْرَبِينَيَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ترجمہ: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔" (سورۃ النساء: 135)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں گواہی دیتے وقت حق اور سچ کو مقدم رکھنا ضروری ہے، اور رشتوں یا دوستی کی وجہ سے سچائی کو چھپانا یا جھوٹی گواہی دینا سخت گناہ ہے۔

Was this helpful?

Still stuck on this one?

Ask a follow-up, and the answer starts from this question.

Got a different question?Ask your own question
Handwritten step-by-step solution preview

Handwritten Step-by-Step Solution

Get this as a handwritten image on WhatsApp — like a tutor wrote it for you.

Try on WhatsApp