We read your photo as:

What was the state of knowledge before Islam? How many Islamic limits (Sharia punishments) are there? Translate and explain the Hadith 'The believer is not a slanderer nor a curser.' Briefly describe

History

ScanSolve AI Answer

سوال نمبر 2:

i. اسلام سے پہلے دنیا کی علمی حالت کیسی تھی؟
اسلام سے پہلے دنیا، خاص طور پر جزیرہ نما عرب، جہالت اور ناخواندگی کی حالت میں تھی۔ اگرچہ کچھ تہذیبوں میں علم کے مراکز موجود تھے، لیکن عام آبادی میں تعلیم کا فقدان تھا۔ توہم پرستی، قبائلی رسم و رواج اور زبانی روایات غالب تھیں۔ علمی اور سائنسی ترقی بہت محدود تھی۔

ii. اسلامی حدود (شرعی سزائیں) کتنی ہیں؟ صرف نام تحریر کریں۔
اسلامی حدود (شرعی سزائیں) پانچ اہم اقسام کی ہیں:

  • حد زنا (زنا کی سزا)
  • حد قذف (تہمت زنا کی سزا)
  • حد سرقہ (چوری کی سزا)
  • حد شرب خمر (شراب نوشی کی سزا)
  • حد حرابہ (ڈاکہ زنی کی سزا)

iii. ترجمہ و تشریح کریں۔ "قال رسول اللہ ﷺ لیس المومن بالطعان ولا اللعان"
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا۔'"
تشریح: یہ حدیث ایک سچے مسلمان کے اعلیٰ اخلاق کو بیان کرتی ہے۔ ایک مومن دوسروں پر طعنہ زنی کرنے، ان میں عیب نکالنے اور گالی گلوچ یا لعنت ملامت کرنے سے پرہیز کرتا ہے۔ اس کی گفتگو پاکیزہ، باوقار اور تعمیری ہوتی ہے، جو اس کے ایمان اور اچھے اخلاق کی عکاسی کرتی ہے۔

iv. آنحضرت ﷺ کا کردار بطور منتظم و حکمران مختصر تحریر کریں۔
بطور منتظم و حکمران، نبی اکرم ﷺ نے مدینہ میں ایک عادلانہ اور منظم معاشرہ قائم کیا۔ آپ ﷺ نے میثاق مدینہ تشکیل دیا، جس میں تمام برادریوں کے حقوق و فرائض طے کیے گئے۔ آپ ﷺ نے ریاستی امور کا انتظام کیا، گورنر مقرر کیے، زکوٰۃ جمع کی، عدالتی نظام قائم کیا اور امن و امان کو یقینی بنایا۔ آپ ﷺ کی حکمرانی عدل، مشاورت (شوریٰ)، شفقت اور مساوات پر مبنی تھی، جو بہترین طرز حکمرانی کی مثال بنی۔

v. غیبت اور بدگمانی کی مذمت بیان کریں۔
اسلام غیبت (پیٹھ پیچھے برائی کرنا) اور بدگمانی (برا گمان کرنا) کی شدید مذمت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے (سورۃ الحجرات، 49:12)۔ یہ معاشرتی ہم آہنگی اور اعتماد کو تباہ کرتی ہے۔ اسی طرح، بدگمانی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ بے بنیاد الزامات اور دشمنی کا باعث بنتی ہے۔ مسلمانوں کو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے اور ان کی نجی زندگی میں جھانکنے سے گریز کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

vi. مصارف زکوٰۃ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ تحریر کریں۔
قرآن مجید (سورۃ التوبہ، 9:60) میں زکوٰۃ کی تقسیم کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں:

  • فقراء (غریب لوگ)
  • مساکین (نادار لوگ)
  • عاملین علیہا (زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے والے)
  • مؤلفة القلوب (جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو)
  • فی الرقاب (غلاموں کو آزاد کرانے یا قیدیوں کو چھڑانے کے لیے)
  • غارمین (قرض دار لوگ)
  • فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں، جیسے جہاد)
  • ابن السبیل (مسافر جو سفر میں محتاج ہو جائے)

vii. راویوں کے لحاظ سے حدیث کی کتنی اقسام ہیں؟ مختصر قلمبند کریں۔
راویوں کی تعداد کے لحاظ سے حدیث کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں:

  1. متواتر حدیث: وہ حدیث جسے ہر دور میں اتنی بڑی تعداد میں راویوں نے روایت کیا ہو کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہو۔ یہ قطعی یقین فراہم کرتی ہے۔
  2. آحاد حدیث: وہ حدیث جسے محدود تعداد میں راویوں نے روایت کیا ہو اور وہ متواتر کی حد تک نہ پہنچے۔ اس کی مزید اقسام ہیں:
    • مشہور: ہر طبقے میں کم از کم تین راویوں نے روایت کی ہو۔
    • عزیز: ہر طبقے میں کم از کم دو راویوں نے روایت کی ہو۔
    • غریب: کسی بھی طبقے میں صرف ایک راوی نے روایت کی ہو۔

viii. صحاح ستہ اور ان کے مصنفین کے نام لکھیں۔
صحاح ستہ (حدیث کی چھ مستند کتابیں) اور ان کے مصنفین کے نام یہ ہیں:

  1. صحیح بخاری - امام بخاری
  2. صحیح مسلم - امام مسلم
  3. سنن ابی داؤد - امام ابو داؤد
  4. سنن ترمذی - امام ترمذی
  5. سنن نسائی - امام نسائی
  6. سنن ابن ماجہ - امام ابن ماجہ

ix. حد سرقہ جاری کرنے کی شرائط کیا ہیں؟
حد سرقہ (چوری کی سزا) جاری کرنے کی شرائط میں شامل ہیں:

  • چوری شدہ مال کی قیمت نصاب (ایک مقررہ حد) تک پہنچتی ہو۔
  • مال حرز (محفوظ جگہ) سے چوری کیا گیا ہو۔
  • چوری خفیہ طور پر کی گئی ہو، علانیہ نہیں۔
  • چور بالغ، عاقل اور مجبور نہ ہو۔
  • واضح ثبوت موجود ہو (مثلاً دو مرد گواہ یا اقرار جرم)۔
  • چوری شدہ مال چور کی ملکیت نہ ہو اور نہ ہی اس میں اس کا کوئی حصہ ہو۔
  • چوری شدید بھوک یا مجبوری کی وجہ سے نہ کی گئی ہو۔

x. حج واجب ہونے کی شرطیں قلمبند کریں۔
حج واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں:

  • مسلمان ہونا۔
  • بالغ ہونا۔
  • عاقل ہونا۔
  • آزاد ہونا۔
  • صحت مند ہونا (حج کے فرائض ادا کرنے کی جسمانی استطاعت رکھنا)۔
  • مالی استطاعت رکھنا (سفر، قیام اور اہل و عیال کے اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت)۔
  • راستے کا پرامن ہونا۔
Was this helpful?

Still stuck on this one?

Ask a follow-up, and the answer starts from this question.

Got a different question?Ask your own question