سوال نمبر 2 (الف): مندرجہ ذیل قرآنی آیات میں سے کسی دو کا اردو، سندھی یا انگریزی میں ترجمہ اور تشریح کیجیے۔
-
آیت نمبر 1:
- قرآنی آیت:
الَّذِينَيُؤْمِنُونَبِالْغَيْبِوَيُقِيمُونَالصَّلَاةَوَمِمَّارَزَقْنَاهُمْيُنفِقُونَ
- ترجمہ: وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
- تشریح: یہ آیت متقی لوگوں کی بنیادی صفات بیان کرتی ہے۔
- ایمان بالغیب: اس سے مراد ان تمام حقائق پر یقین رکھنا ہے جو ہماری حسی ادراک سے باہر ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات، فرشتے، جنت، دوزخ، تقدیر اور یوم آخرت۔ یہ ایمان کی بنیاد ہے کہ انسان دیکھے بغیر اللہ کے احکامات پر یقین رکھے۔
- اقامت صلوٰۃ: نماز کو اس کے تمام آداب، شرائط اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا۔ یہ اللہ تعالیٰ سے بندے کے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور اسے برائیوں سے روکتی ہے۔
- انفاق فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، جس میں زکوٰۃ، صدقات اور دیگر خیراتی کام شامل ہیں۔ یہ مال کی پاکیزگی، معاشرتی ہمدردی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
-
آیت نمبر 2:
- قرآنی آیت:
فِيقُلُوبِهِممَّرَضٌفَزَادَهُمُاللَّهُمَرَضًاۖوَلَهُمْعَذَابٌأَلِيمٌبِمَاكَانُوايَكْذِبُونَ
- ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری ہے، تو اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس جھوٹ کے بدلے جو وہ بولتے تھے۔
- تشریح: یہ آیت منافقین کی حالت بیان کرتی ہے۔
- دلوں میں بیماری: اس سے مراد نفاق، شک، حسد، کفر اور حق سے روگردانی کی روحانی بیماری ہے۔ یہ بیماری انسان کو سچائی کو قبول کرنے سے روکتی ہے۔
- اللہ کا بیماری بڑھانا: جب انسان خود گمراہی اور نفاق کا راستہ چنتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، جس سے اس کی گمراہی اور نفاق مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے سزا نہیں بلکہ انسان کے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہے۔
- دردناک عذاب: یہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہو سکتا ہے۔ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں جہنم کا دردناک عذاب ان کے جھوٹ، نفاق اور حق کو چھپانے کی وجہ سے ہوگا۔
3 done, 2 left today. You're making progress.