We read your photo as:

What continents must have looked like according to the continental drift theory. Show through the illustration. You can take help from Book Pg 6

Geography

ScanSolve AI Answer

کانٹینینٹل ڈرفٹ تھیوری کے مطابق، براعظموں کی شکل وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ یہاں ہر دور میں براعظموں کی ممکنہ شکل کی وضاحت کی گئی ہے:

225 million years ago (225 ملین سال پہلے):
اس وقت تمام براعظم ایک بڑے سپر براعظم کی شکل میں جڑے ہوئے تھے جسے پینجیا (Pangaea) کہا جاتا تھا۔ یہ ایک واحد زمینی تودہ تھا جو ایک بڑے سمندر، پینتھالاسا (Panthalassa)، سے گھرا ہوا تھا۔

150 million years ago (150 ملین سال پہلے):
پینجیا ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا۔ یہ دو بڑے براعظموں میں تقسیم ہو گیا تھا: شمالی حصہ لوریشیا (Laurasia) کہلاتا تھا (جس میں موجودہ شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا شامل تھے) اور جنوبی حصہ گونڈوانا (Gondwana) کہلاتا تھا (جس میں موجودہ جنوبی امریکہ، افریقہ، انٹارکٹیکا، آسٹریلیا اور ہندوستان شامل تھے)۔ ان کے درمیان ٹیتھیس سمندر (Tethys Sea) بننا شروع ہو گیا تھا۔

65 million years ago (65 ملین سال پہلے):
لوریشیا اور گونڈوانا مزید چھوٹے براعظموں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ شمالی امریکہ یورپ سے الگ ہو رہا تھا، اور جنوبی امریکہ افریقہ سے الگ ہو رہا تھا۔ ہندوستان ایشیا کی طرف شمال کی جانب بڑھ رہا تھا، اور آسٹریلیا انٹارکٹیکا سے الگ ہو کر شمال کی طرف حرکت کر رہا تھا۔ براعظموں کی شکلیں موجودہ شکلوں سے ملتی جلتی ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن ان کی پوزیشنیں مختلف تھیں۔

nowadays (آج کل):
براعظم اپنی موجودہ پوزیشنوں پر ہیں۔ شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، یورپ، افریقہ، ایشیا، آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا الگ الگ براعظموں کے طور پر موجود ہیں۔ یہ وہ شکل ہے جسے ہم آج دنیا کے نقشے پر دیکھتے ہیں۔

Was this helpful?

Still stuck on this one?

Ask a follow-up, and the answer starts from this question.

Got a different question?Ask your own question
Handwritten step-by-step solution preview

Handwritten Step-by-Step Solution

Get this as a handwritten image on WhatsApp — like a tutor wrote it for you.

Try on WhatsApp